مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يكره إذا طاف بالبيت بعد العصر وبعد الفجر أن يصلي حتى تغيب أو تطلع باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ عصر اور فجر کے بعد اگر طواف کیا جائے تو جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے دو رکعتیں نہ ادا کی جائیں
حدیث نمبر: 13733
١٣٧٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب قال: رأيت سعيد بن جبير و (مجاهدًا) (١) يطوفان بالبيت حتى تصفار الشمس ويجلسان، (ولا يصليان حتى تغرب الشمس) (٢).مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد کو دیکھا کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا یہاں تک کہ سورج زرد ہوگیا تو وہ دونوں حضرات بیٹھ گئے، (نماز ادا نہ کی) ۔
حواشی
(١) في [ص]: (مجاهد).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ز، ن]، وانظر الأثر في مصنف عبد الرزاق (٩٠٠٩).