مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يكره إذا طاف بالبيت بعد العصر وبعد الفجر أن يصلي حتى تغيب أو تطلع باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ عصر اور فجر کے بعد اگر طواف کیا جائے تو جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے دو رکعتیں نہ ادا کی جائیں
حدیث نمبر: 13732
١٣٧٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى (بن عبد الأعلى) (١) عن هشام عن عطاء قال: كان المسور بن مخرمة يطوف (بعد الغداة ثلاثة) (٢) أسابيع، فإذا طلعت الشمس صلّى (لكل) (٣) (سبوع) (٤) ركعتين، وبعد العصر يفعل ذلك، فإذا (غابت) (٥) الشمس صلّى لكل (سبوع) (٦) ركعتين (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے فجر کے بعد تین طواف کئے پھر جب سورج طلوع ہوا تو ہر طواف کے بدلے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر اسی طرح عصر کے بعد تین بار طواف کیا اور جب سورج غروب ہوگیا تو ہر طواف کے بدلے دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حواشی
(١) من [ص]: سقط ما بين القوسين.
(٢) في [جـ، ص، ز]: (بعد الغداة ثلاثة)، وفي [أ، ب]: (بالغداة ثلاثة)، وفي [ن]: (بالغداة بثلاثة).
(٣) في [أ، ب]: (لكن).
(٤) في [أ، ب، ن]: (أسبوع).
(٥) في [ص]: (غايت).
(٦) في [أ، ب، ن]: (أسبوع).