حدیث نمبر: 1372
١٣٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن الحكم عن علي في المستحاضة تؤخر من الظهر، وتعجل من العصر، وتؤخر المغرب، وتعجل العشاء، قال: وأظنه قال: وتغتسل للفجر (قال) (١) فذكرت ذلك لابن الزبير وابن عباس، فقالا: ما نجد (لها) (٢) إلا ما قال علي (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ مستحاضہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ظہر کو تاخیر سے اور عصر کو جلدی، اسی طرح مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی پڑھے گی۔ اور فجر کے لیے غسل کرے گی۔ حضرت حکم کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن زبیر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری بھی یہی رائے ہے۔
حواشی
(١) زيادة (قال) في [أ، جـ، خ، ك].
(٢) في [خ]: (لك) وكذلك في [أ، ك].
(٣) زيادة (رض) في [أ].