مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله (تعالى): ﴿(فلا) رفث ولا فسوق﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ کی تفسیر میں کیا کہا گیا ہے
حدیث نمبر: 13702
١٣٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿وَلَا ⦗١١⦘ جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، قال: قد (صار) (١) الحج في ذي الحجة (فلا شهر ينسأ) (٢) ولا شك في الحج؛ لأن أهل الجاهلية كانوا (يحطون) (٣)، فيحجون في غير ذي الحجة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ سے مراد یہ ہے کہ ذی الحجہ کے مہینے میں حج کیا جائے اس مہینے سے مؤخر نہ کیا جائے، حج میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ جاہلیت میں لوگ ذی الحجہ کے علاوہ دوسرے مہینوں میں کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ص]: (مار)، وفي تفسير ابن كثير (٢/ ٣٥٧)، (فرض)، وفي تفسير السمرقندي (١/ ١٥٨) (استقر).
(٢) أي: لا يؤخر، وفي [أ، ب، ن]: (لا تنهر سبا)، وفي [جـ]: (لا تنهر ينسأ)، وفي [ص]: (ولا شهر)، وفي [ز]: (ولا شهر ينسأ)، وانظر: الدر المنثور ١/ ٥٣٥، وفتح الباري ٣/ ٤٣٥.
(٣) في [ف]: (يسقطون المحرم).