مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
(في) الرجل إذا أهل بعمرة فأحصر باب: کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھے اور وہ پھر محصور ہو جائے
١٣٥٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: خرجنا عمارًا حتى إذا كنا بذات (الشقوق) (١) (٢) لدغ صاحب لنا، فاعترضنا الطريق (نسأل) (٣) ما (يصنع) (٤) به، فإذا ابن مسعود في ركب، فقلنا لدغ صاحب لنا، فقال: اجعلوا بينكم وبين صاحبكم يوم أمارة، (وليرسل) (٥) بالهدي، فإذا نحر الهدي فليحل وعليه العمرة (٦).حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمار کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے نکلے جب ہم ذات الشقوق جگہ پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا، ہم نے راستہ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا شروع کردیا جس سے اس کے متعلق دریافت کریں کہ اب اس کا کیا کریں ؟ اچانک ہم نے دیکھا کہ حضرت ابن مسعود بھی قافلے میں ہیں، ہم نے عرض کیا ہمارے ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے اور اپنے ساتھی کے درمیان کوئی دن خاص کرلو اور اس کی طرف سے قربانی کا جانور بھیجو، جب وہ جانور قربان ہوجائے تو وہ شخص اس دن حلال ہوجائے اس پر اس عمرہ کی قضاء ہے۔