حدیث نمبر: 13543
١٣٥٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: خرجنا عمارًا حتى إذا كنا بذات (الشقوق) (١) (٢) لدغ صاحب لنا، فاعترضنا الطريق (نسأل) (٣) ما (يصنع) (٤) به، فإذا ابن مسعود في ركب، فقلنا لدغ صاحب لنا، فقال: اجعلوا بينكم وبين صاحبكم يوم أمارة، (وليرسل) (٥) بالهدي، فإذا نحر الهدي فليحل وعليه العمرة (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمار کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے نکلے جب ہم ذات الشقوق جگہ پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا، ہم نے راستہ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا شروع کردیا جس سے اس کے متعلق دریافت کریں کہ اب اس کا کیا کریں ؟ اچانک ہم نے دیکھا کہ حضرت ابن مسعود بھی قافلے میں ہیں، ہم نے عرض کیا ہمارے ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے اور اپنے ساتھی کے درمیان کوئی دن خاص کرلو اور اس کی طرف سے قربانی کا جانور بھیجو، جب وہ جانور قربان ہوجائے تو وہ شخص اس دن حلال ہوجائے اس پر اس عمرہ کی قضاء ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ن]: (السقوف).
(٢) في [جـ]: زيادة (و).
(٣) في [أ، ب، جـ، ص، ز]: (يسأل)، وفي [ن]: (ليسأل).
(٤) في [أ، ن]: (يصغي)، وفي [ص]: (نصنع).
(٥) في [ن]: (يرسل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13543، ترقيم محمد عوامة 13241)