مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل يهل بالحج فيحصر ما عليه باب: کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر وہ روک لیا جائے تو اس پر کیا ہے؟
حدیث نمبر: 13542
١٣٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن يحيى بن سعيد ⦗٥١٤⦘ عن سليمان (بن يسار) (٢) أن معبد (٣) بن (حزابة) (٤) (المخزومي) (٥) صرع بطريق مكة، فخرج ابنه إلى الماء (الذي) (٦) صرع عليه أبوه، فوجد ابن عباس وابن عمر ومروان بن الحكم، (فكلمهم) (٧) [(و) (٨) ذكر (لهم) (٩) مصرع أبيه، والذي أصابه، فكلهم] (١٠) (قالوا) (١١): (يتداوى بالذي يصلحه) (١٢)، فإذا صح اعتمر، ففسخ عنه حرم الحج، فإذا أدركه الحج فعليه الحج وما استيسر من الهدي (١٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معبد بن حزابہ المخزومی کو مکہ کے سفر میں راستہ میں مرگی کا دورہ پڑا، ان کا بیٹا اس چشمے کی طرف گیا جہاں پر اس کے باپ کو دورہ پڑا تھا، اس نے راستہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم کو پایا، ان کے سامنے اس کے باپ کے مرگی کے دورے کا ذکر کیا گیا، سب حضرات نے فرمایا : وہ دوا استعمال کرے جس سے وہ ٹھیک ہوجائے، پھر جب ٹھیک ہوجائے تو عمرہ کر کے حج کو ختم کر دے، اور اگر حج کو پالے تو حج کرے اور جو قربانی میسر ہو وہ دیدے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (سهمان).
(٢) زيادة من: [جـ، ز، ص].
(٣) كذا في الأصول، وفي مشارق الأنوار (١/ ٢٤٤)، ومختصر خلافيات البيهقي ٣/ ٢٥٩، بينما ورد أن اسمه سعيد كما في الموطأ ١/ ٣٦٢، وشرح الزرقاني ٢/ ٣٩٥، والاستذكار ٤/ ١٧٧ و ١٨١، والحجة ٢/ ١٨٤.
(٤) في [جـ]: (حرابة)، وفي [أ، ن]: (حراسة)، وانظر مشارق الأنوار ١/ ٢٢٤، وشرح الزرقاني ٢/ ٢٥٩، ونيل الأوطار ٥/ ١٧٥، ومختصر خلافيات البيهقي ٣/ ٢٥٩، وتفسير ابن جرير ٢/ ٢٢١، وسنن البيهقي ٥/ ٢٢٠، والموطأ ١/ ٣٦٢، ومسند الشافعي ص ١٢٤، والتمهيد ١٥/ ٢٠٠، والأم ٢/ ١٦٤، والحجة ٢/ ١٨٤، والاستذكار ٤/ ١٧٧.
(٥) في [أ، ب، ن]: (المحرومي).
(٦) في [جـ، ص]: (إلى).
(٧) في [ب]: (فكلم).
(٨) سقط من: [أ، ب، ز].
(٩) في [ز، أ، ب]: (له).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ، ص].
(١١) في [أ، ب، جـ، ز، ص]: (قال).
(١٢) في [ص]: (يداوي بالذي يصلحه)، وفي [ن]: (يتداوى بصلحه).