حدیث نمبر: 13473
١٣٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن ابن عون (عن) (١) إبراهيم عن الأسود عن أم المُؤمنين وعن القاسم (عن أم المؤمنين قالت: قلت) (٢): (يا) (٣) رسول اللَّه (٤)، (يصدر) (٥) الناس بنسكين وأصدر بنسك واحد، قال: "انتظري، فإذا طَهُرتِ فاخرجي إلى التنعيم، فأَهِلِّي منه ثم القينَا عند كذا وكذا، ولكنها على قدر (نصبك) (٦) "، أو (قال) (٧): "نَفَقَتِكِ"، أو كما قال رسول اللَّه ﷺ (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سارے لوگ دو عبادتوں کے ساتھ آئے ہیں اور میں ایک عبادت کے ساتھ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ٹھہر جا، جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو تنعیم جاؤ وہاں سے احرام باندھ کر (عمرے کے لیے) آؤ پھر ہمیں فلاں فلاں جگہ پر ملنا لیکن اپنے حصے کے بقدر یا اپنے نفقہ کی بقدر فرمایا۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (قال: قلت)، وفي [ز]: (قالت: قلت)، وفي [ص]: (قالا: قالت).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [ب]: ﷺ.
(٥) في [أ، ب]: (تصدر).
(٦) في [أ، ب]: (نصيبك).
(٧) سقط من: [جـ، ص].