حدیث نمبر: 13395
١٣٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن سلمة بن كهيل عن الحسن (العرني) (٢) عن ابن (أذينة) (٣) (عن أبيه) (٤) أن رجلًا أتى عمر، فسأله عن العمرة، فقال: يا أمير المؤمنين ما (أتيتك) (٥) حتى ركبت الإبل والخيل والسفن، فمن أين أهل؟ قال: ائت عليًا (فاسأله) (٦)، فأتى عليًا، فسأله، فقال: من حيث أبدأت، فرجع إليه فأخبره، فقال: لم (أجد) (٧) لك إلا ما قال علي (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن اذینہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! میں اونٹ، گھوڑے یا کشتی پر سوار ہو کر آتا ہوں میں کہاں سے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ان سے دریافت کرو، وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا جہاں سے تو سفر شروع کرتا ہے وہاں سے، وہ شخص دوبارہ حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، آپ نے فرمایا : میں تیرے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس جواب کے علاوہ کوئی اور بات نہیں پاتا۔

حواشی
(١) في [ن، ف]: (سليمان).
(٢) في [ن]: (العربي).
(٣) في [ص]: (آذنية).
(٤) سقط من: [ز، ص]، وفي [جـ]: (عن أمه).
(٥) في [ب، ن]: (آتيك).
(٦) في [أ، جـ، ص، ز]: (فسأله).
(٧) في [جـ، ص، ز]: (ما أجد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13395، ترقيم محمد عوامة 13100)