حدیث نمبر: 13295
١٣٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن إبراهيم بن عبد اللَّه بن (حنين) (١) (عن أبيه) (٢) قال: اختلف ابن عباس والمسور بن مخرمة في المحرم يغسل رأسه قال: (فأرسلوني) (٣) إلى أبي أيوب، فأتيته وهو بين قرني (البئر) (٤) يغتسل، فقلت: إن ابن (أخيك) (٥) ابن عباس أرسلني إليك يقول: كيف رأيت رسول اللَّه ﷺ يغسل رأسه وهو محرم؟ فأخذ من الماء (فصبه) (٦) على رأسه، ثم ⦗٤٥٣⦘ أقبل وأدبر، (ثم) (٧) قال: هكذا رأيت رسول اللَّه ﷺ (يغسل رأسه) (٨) وهو محرم، فرجعت إليهما، فأخبرتهما بقوله، فقال المسور: لا (أخالفك) (٩) أبدًا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حنین کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت مسور بن مخرمہ کا محرم کا سر دھونے کے متعلق اختلاف ہوگیا، انہوں نے مجھے حضرت ابو ایوب کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس آیا تو وہ کنویں پر نہا رہے تھے، میں نے ان سے عرض کیا مجھے آپ کے بھتیجے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت احرام میں کس طرح سر دھوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ آپ نے پانی لیا اور اس کو اپنے سر پر ڈالا پھر وہ آگے اور پیچھے ہوئے اور فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حالت احرام میں اس طرح سر دھوتے ہوئے دیکھا، پھر میں ان حضرات کی طرف واپس آیا اور ان کو خبر دی جو انہوں نے کہا تھا، حضرت مسور نے فرمایا میں اب کبھی بھی آپ سے اختلاف نہیں کروں گا۔

حواشی
(١) في [ب، ن]: (جبير)، وفي [ص]: (حنير).
(٢) سقط من: [أ، ب، ن].
(٣) في [أ، ب]: (شلوني)، وفي [ن]: (شأني).
(٤) في [أ، ب، ن]: (البعير)، وفي [ص]: (البير).
(٥) في [أ، ن]: (أختك).
(٦) في [ص]: (قبضة).
(٧) في [أ، جـ، ز، ص]: زيادة (ثم).
(٨) سقط من: [أ، ب، ن]، وفي [ن]: (يفعل).
(٩) في [ب، ن]: (يخالفك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13295
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٨٤٠) ومسلم (١٢٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13295، ترقيم محمد عوامة 13002)