مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المحرم إذا غمز أو لمس أو باشر باب: محرم بیوی کو آنکھ مار دے، چھو لے یا اس سے شرعی ملاقات کر لے
١٣٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن أيوب عن غيلان بن جرير قال: كنت أنا (وحكيم بن الدريم) (١) (فأتاه) (٢) رجل فقال: إني وضعت يدي من امرأتي موضعًا فلم أرفعها حتى (أجنبت) (٣). فقلنا: ما لنا (بها علم) (٤)، فانطلقوا (بنا) (٥) إلى علي بن عبد اللَّه البارقي، (فأتيناه) (٦)، فسألناه، فقال: ما لي بهذا (من) (٧) علم، (فبينما) (٨) نحن كذلك (إذا) (٩) نحن بجابر بن زيد، فقلت: (ذاك) (١٠) أبو الشعثاء (ائته) (١١) فاسأله ثم ارجع إلينا، فأخبرنا، فأتاه، فسأله، ثم رجع إلينا يعرف في وجهه البشر فقال: إنه استكتمني، فظننا أنه أمره (بدم) (١٢).حضرت غیلان بن جریر کہتے ہیں کہ میں اور حضرت حکم بن الدریم موجود تھے کہ ہمارے پاس ایک شخص آیا اور کہا : میں نے اپنا ہاتھ اپنی بیوی کے ایک حصے پر رکھا ہوا تھا کہ میں جنبی ہوگیا، ہم نے کہا ہمیں تو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے، چلو ہمارے حضرت ساتھ علی رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ البارقی کے پاس، پھر ہم ان کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا ؟ انہوں نے کہا مجھے تو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے، اس دوران ہم نے حضرت جابر بن زید کو دیکھا تو میں نے کہا یہ ابو الشعثاء ہیں، ان کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو پھر ہمیں بھی بتانا، وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا، پھر وہ ہماری طرف آیا اس کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، اور کہا انہوں نے مجھے پوشیدہ رکھنے کو کہا ہے، پس ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے اس کو دم دینے کا حکم دیا۔