حدیث نمبر: 1317
١٣١٧ - حدثنا (يعلى) (١) قال: حدثنا قدامة بن عبد اللَّه العامري قال حدثتني (جسرة) (٢) (قالت) (٣): حدثتني عائشة قالت: دخلت علي امرأة من اليهود، فقالت: إن عذاب القبر من البول، قلت: كذبت، قالت: بلى، إنه ليقرض منه الجلد والثوب، قالت: فخرج رسول اللَّه ﷺ إلى الصلاة، وقد ارتفعت أصواتنا: فقال: "ما هذا؟ " فأخبرته، فقال: "صدقت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ میں نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے۔ وہ بولی میں ٹھیک کہتی ہوں اس کی وجہ سے کپڑے اور کھال کو کاٹا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اس دوران ہماری آوازیں بلند ہوچکی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے۔

حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن شبيبة)
(٢) في [جـ، د، هـ،]: (حرة).
(٣) في [خ]: (قال).
(٤) مجهول؛ لحال قدامة، أخرجه أحمد (٢٤٣٢٤) والنسائي ٣/ ٧٢ والطبراني في الأوسط (٣٨٧٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1317
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1317، ترقيم محمد عوامة 1316)