مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في الرجل يلطم خادمه باب: کوئی شخص اپنے خادم کو طمانچہ مارے
حدیث نمبر: 13031
١٣٠٣١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال بن (يساف) (١) قال: عجل شيخ فلطم خادمًا له فقال سويد بن مقرن: أعجز عليك إلا حر وجهها؟ لقد رأيتني سابع سبعة من بني مقرن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا، فأمرنا رسول اللَّه ﷺ أن نعتقها (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن یساف سے مروی ہے کہ ایک بوڑھے نے اپنے خادم کو طمانچہ مار دیا، حضرت سوید بن مقرّن نے فرمایا : تیرے پاس اب اسے آزاد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں مجھے یاد ہے ہم اپنے باپ مقرن کے سات بچے تھے اور ہماری ایک خادمہ تھی جسے ہم میں سے سب سے چھوٹے نے تھپڑ مارا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کردیں۔
حواشی
(١) في [ب]: (سياف).