حدیث نمبر: 1301
١٣٠١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن (قتادة) (١) عن أبي جعفر قال: دخل النبي ﷺ على أم الفضل، ومعها حسين، فناولته إياه، فبال على بطنه، أو على صدره، فأرادت أن تأخذه منه فقال النبي ﷺ: "لا (تزرمي) (٢) ابني (لا تزرمي ابني) (٣) فإن بول الغلام يرشح، أو ينضح، وبول الجارية يغسل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام الفضل کے ہاں تشریف لائے۔ ام الفضل کے پاس حضرت حسین تھے، انہوں نے حضرت حسین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک پر پیشاب کردیا۔ حضرت ام الفضل بچے کو پکڑنے لگیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ] زيادة: (عن الحسن كلاهما ينضحان).
(٢) في حاشية [جـ]: (من الزرم وهو قطع البول).
(٣) سقط من: [خ، د، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1301
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1301، ترقيم محمد عوامة 1300)