مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
من يفطر يوما من رمضان باب: کوئی شخص رمضان کا کوئی روزہ توڑ دے
١٢٩٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد بن (عبد) (١) الرحمن عن أبي هريرة قال: أتي رجل النبي ﷺ فقال: هلكت (فقال) (٢): "وما أهلكك؟ " قال: وقعت على امرأتي في رمضان، فقال النبي ﷺ: "أعتق رقبة"، فقال: لا أجدها فقال: " (صم) (٣) شهرين متتابعين"، قال: لا أقوى قال: "فأطعم ستين مسكينًا" قال: لا أجد فقال: "اجلس"، فجلس فبينما هو كذلك إذ أتي بعَرْق فيه تمر، فقال له النبي ﷺ: "اذهب فتصدق به"، فقال: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها أهل بيت أحوج إليه منا، قال: فضحك النبي ﷺ حتى بدت أنيابه ثم قال: "انطلق فأطعمه عيالك" (٤).حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ھلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غلام آزاد کر، اس نے عرض کیا میں غلام نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھ لے، اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے عرض کیا میں وہ بھی نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جا، وہ بیٹھ گیا اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں آئیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : اس کو لے جا اور جا کر صدقہ کر دے، اس نے عرض اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مدینہ کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر اتنا مسکرائے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے پھر فرمایا : یہ لے کر اپنے عیال کو کھلا دے۔