مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
من رخص في عتق ولد الزنى باب: بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 12954
١٢٩٥٤ - حدثنا وكيع عن ثور الشامي عن (عمر بن) (١) عبد الرحمن بن سعد قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إن لي غلامين، أحدهما رشدة والآخر غية، وإني أريد أن أعتق أحدهما، فأيهما ترى أن أعتق؟ قال: أكثرهما ثمنًا (ولو ولد زنا) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد الرحمن بن سعد سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ میرے پاس دو غلام ہیں، ایک صحیح النسب ہے اور دوسرا ولد الزنی، اور میں ایک غلام آزاد کرنا چاہتا ہوں، آپ کے خیال میں کونسا آزاد کروں ؟ آپ نے فرمایا دیکھو جو قیمتی ہو اس کو آزاد کرو، انہوں نے پایا کہ ولد الزنی زیادہ قیمتی ہے، پس آپ نے ان کو اس کے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔
حواشی
(١) سقط من: [ف، ن]، وفي [ز]: (عمرو بن)، وانظر: الجرح والتعديل ٦/ ١٢٠، والثقات ٥/ ١٥٠.
(٢) كذا في [ب، ن، ف]، بينما في [ص، ز]: (بدينار).
(٣) مجهول؛ لجهالة عمر بن عبد الرحمن بن سعيد.