حدیث نمبر: 12947
١٢٩٤٧ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي البختري عن (١) مرة قال: دخلت المسجد وأنا أحدث نفسي أن أصلي عند كل اسطوانة ركعتين، ورجل يرمقني لا أشعر به، فلما جلست نظرت فإذا عبد اللَّه جالسا، فأتيته فجلست إليه، فإذا الرجل الذي يرمقني عنده، قال: ولا يشعر بمكاني، (قال) (٢): (يا أبا) (٣) ⦗٣٦٥⦘ عبد الرحمن، إن رجلًا دخل المسجد فجعل يصلي عند كل اسطوانة ركعتين، فقال: لو علم أن اللَّه عند (الاسطوانة الأولى) (٤) لم يتحول حتى (يقضي) (٥) صلاته، قال: فتركت بقية ما أردت أن أصلي (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا ایک شخص مجھے ترچھی نگاہ سے گھور رہا تھا میں اس کو نہیں جانتا تھا، جب میں بیٹھا تو میں نے دیکھا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں، میں ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو وہ شخص مجھے دیکھ رہا تھا وہ ان کے پاس تھا اور وہ میری جگہ کو نہیں جانتا تھا، اس نے کہا اے ابو عبد الرحمن ! ایک مسجد میں داخل ہوتا اور کہتا ہے کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا، آپ نے فرمایا اگر وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی ستون کے پاس ہیں تو وہاں سے نہیں پھرے گا یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کرے گا، حضرت مرہ کہتے ہیں کہ میں نے جو پڑھنے کا ارادہ کیا تھا وہ ترک کردیا۔

حواشی
(١) في [ن]: زيادة (ابن).
(٢) سقط من: [ف، ن].
(٣) في [أ]: (يا با).
(٤) في [أ، ن، ب]: (كل أسطوانة).
(٥) في [ص]: (تقضي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12947
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12947، ترقيم محمد عوامة 12674)