حدیث نمبر: 12927
١٢٩٢٧ - حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: كنت عند ابن عباس فجاءته امرأة، فقالت: إني نذرت أن أنحر ابني، (فقال) (١) ابن عباس: لا ⦗٣٦٠⦘ تنحري ابنك وكفري عن يمينك، (قال) (٢): فقال رجل عند ابن عباس: (إنه) (٣) لا وفاء لنذر في معصية، فقال ابن عباس: أليس قد قال اللَّه (٤) في الظهار: ﴿وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا﴾ [المجادلة: ٢]، (ثم) (٥) قال فيه من الكفارة ما سمعت (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ایک عورت آئی اور عرض کیا میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کروں گی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا اپنے بیٹے کو ذبح مت کر اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص موجود تھا اس نے کہا، معصیت والی نذر کا تو پورا کرنا نہیں ہے، (اور اس پر کفارہ بھی نہیں ہوتا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے مسئلہ ظہار میں نہیں فرمایا : { وَاِِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا } پھر فرمایا اس میں وہ کفارہ ہے جو تو نے سنا ہے۔

حواشی
(١) في [ص]: (قال).
(٢) في [ص، ع، ن]: (فقال).
(٣) في [جـ، ص]: (فإنه).
(٤) في [ص]: زيادة (تعالى).
(٥) سقط من: [ف، ن].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12927
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12927، ترقيم محمد عوامة 12654)