مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في الرجل يجعل عليه النذر إلى الموضع (ينحر) فيه أو يصلي أو يمشي إليه باب: کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
حدیث نمبر: 12841
١٢٨٤١ - حدثنا مروان بن معاوية الفزاري عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن الطائفي عن ميمونة بنت كردم (اليسارية) (١) أن أباها لقي النبي ﷺ وهي رديفة له فسأله فقال: إني نذرت أن أنحر ببوانة فقال رسول اللَّه ﷺ: "هل (بها) (٢) وثن؟ "، (قالت) (٣): قال أبي: لا. قال له النبي ﷺ: "فأوف بنذرك ⦗٣٣٩⦘ حيث (نذرت) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ بنت کردم الیساریہ فرماتی ہیں میرے والد کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی وہ ان کے ردیف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ بوانہ (ساحل سمندر) میں قربانی کروں گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا وہاں کوئی بت، مورتی ہے ؟ میرے والد نے جواب دیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنی نذر وہاں پوری کر جہاں تو نے نذر مانی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ص]: (البشارية).
(٢) في [أ، ب]: (لها).
(٣) في [أ]: (قال).
(٤) في [أ، ب، س، ف]: (قدرت).
(٥) منقطع؛ عبد اللَّه الطائفي لم يسمع من ميمونة، أخرجه أحمد (١٥٤٥٦)، وابن ماجه (٢١٣١)، والطبراني ٢٥/ ٧٤، وأبو داود (٣٣١٤)، وابن سعد ٥/ ٥١٤ و ٨/ ٣٠٤، والبيهقي ١٠/ ٨٣، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٣٩، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٤٩٠، وابن قانع ٢/ ٣٩٤.