حدیث نمبر: 12839
١٢٨٣٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: طرحت جارية طنًا من قصب على صبي فقتلته، فأتى (مسروق في) (١) ذلك فقال: هل (تعلم) (٢) لها من موالي؟ قالوا: لا ندري من مواليها، قال: (فهل) (٣) لها مال؟ قالوا: (ما) (٤) نعلم (لها) (٥) (مالا) (٦)، قال: فمروها أن تصوم شهرين متتابعين.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی بچہ پر پھینک کر اس کو مار دیا اس کو حضرت مسروق کے پاس لائے، آپ نے فرمایا کیا اس کے موالی ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، آپ نے پوچھا کیا اس کے پاس مال ہے ؟ کہا ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پاس مال ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے۔

حواشی
(١) في [جـ، ز، ص]: وردت (مسروق في ذلك)، وفي [ب]: (مسروق ذلك)، وفي [ن]: (مسروقًا ذلك).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، ن]: زيادة (تعلم)، وفي [ص]: (يعلم).
(٣) في [أ]: (هل).
(٤) في [أ]: (إنا).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، ص]: زيادة (لها).
(٦) في [أ، جـ]: (مال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12839
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12839، ترقيم محمد عوامة 12573)