مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في المرأة تقتل خطأ وليس لها ولي (يكفر لها) باب: عورت غلطی سے کسی کو قتل کر دے اور اس کا کوئی ولی بھی نہ ہو جو کفارہ ادا کرے اس کی طرف سے
١٢٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود بن أبي هند عن الشعبي قال: مرت رفقة من أهل الشام فاشتروا جارية فأعتقوها فطرحت طنا من قصب على صبي فقتلته، (فأوتي بها) (١) مسروق، فقال: التمسوا أولياءها، فلم يجدوا أحدًا، فنظر ساعة و (تفكر) (٢)، وقال: قال اللَّه: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [المجادلة: ٤]، اذهبي فصومي شهرين متتابعين ولا شيء لهم عليك.حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں اہل شام کے پاس سے ایک مرتبہ گذرا تو انہوں نے ایک باندی خرید کر اس کو آزاد کردیا، اس باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی ایک بچہ پر پھینکی جس کی وجہ سے وہ بچہ ہلاک ہوگیا، اسے حضرت مسروق کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا اس کے اولیاء کو تلاش کرو، انہوں نے کسی کو نہ پایا، آپ کچھ دیر غور وفکر فرماتے رہے پھر فرمایا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } اس کو لے جاؤ اور اس سے ساٹھ روزے رکھواؤ، اور ان کے لیے اس پر کچھ نہیں ہے (جرمانہ وغیرہ) ۔