حدیث نمبر: 12817
١٢٨١٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الأجلح عن عمرو بن سعيد البجلي قال: كنت تحت منبر ابن الزبير (وهو عليه) (١) فجاء رجل وقال: يا أمير المؤمنين (إني نذرت أن أحج ماشيًا) (٢) حتى إذا كان كذا وكذا (٣) مشيت خشيت أن يفوتني الحج، (فركبت) (٤)، (فقال) (٥): لا خطأ عليك، ارجع عام (قابل فامش ما ركبت واركب ما مشيت) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سعید البجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر منبر پر تھے اور میں منبر کے نیچے (سامنے) بیٹھا تھا، ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! میں نے نذر مانی تھی کہ پیدل حج کروں گا جب میں اتنا اتنا سفر پیدل کرچکا تو مجھے خوف ہوا کہ میرا حج فوت ہوجائے گا پھر میں سوار ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا تجھ پر کوئی غلطی نہیں ہے، اگلے سال دوبارہ لوٹ جو سوار ہوا ہے وہ پیدل چل اور جو پیدل چلا تھا اتنا سوار ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) سقط من: [أ، ب، ن].
(٣) في [أ، ب، ز، ص]: زيادة (و) قبل (مشيت).
(٤) في [ز، ص]: (وركبت).
(٥) في [ز، ص]: (قال)، وفي [ب، ن]: (وقال)، وذلك في [أ].
(٦) في [ز]: (قابل فامش ما ركبت وإن كنت ما مشيت)، وفي [ص]: (قابل فما مشى فما ركبت واركب ما مشيت)، وفي [ن]: (فامش ما ركبت وركب ما مشيت) بدون قابل.
(٧) مجهول؛ لجهالة عمرو بن سعيد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12817
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12817، ترقيم محمد عوامة 12554)