مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
نذر أن يزم أنفه، ما كفارته؟ باب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں نکیل ڈالے گا، (نکیل کی طرح سوراخ کرے گا) تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
حدیث نمبر: 12810
١٢٨١٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن طاوس قال: لا زمام ولا خزام ولا نياحة يعني (في الإسلام) (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اسلام میں نکیل ڈالنا، اور بالوں کا حلقہ بنانا اور نوحہ کرنا نہیں ہے، (خزامہ کہتے ہیں کہ بالوں کا حلقہ جو اونٹ کی ناک کے سوراخ میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے اس کی لگام کو باندھا جاتا ہے) ۔
حواشی
(١) في [أ]: (قال: سلام).