مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
نذر أن يزم أنفه، ما كفارته؟ باب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں نکیل ڈالے گا، (نکیل کی طرح سوراخ کرے گا) تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
حدیث نمبر: 12809
١٢٨٠٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث بن سوار عن الحسن في الرجل يجعل على (أنفه) (١) أن يزمها ويحج ماشيًا، قال: (قد) (٢) نهى رسول اللَّه (ﷺ) (٣) عن المثلة، انزع هذا (عنك) (٤) وحج راكبًا وانحر بدنة (٥).مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ اپنی ناک میں سوراخ کرے گا (کہ اس میں لگام یا نکیل ڈالے) اور پیدل حج کرے گا، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے، اس کو اپنے سے اتار دے اور سوار ہو کر حج ادا کر اور اونٹ کی قربانی کر۔
حواشی
(١) في [ز]: (نفسه).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [ص، ز]: زيادة (عنك).