حدیث نمبر: 12738
١٢٧٣٨ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن منصور (بن) (١) عبد الرحمن عن أمه أنها سألت عائشة ﵂ (٢) ما يكفر قول الإنسان: كل مالي في سبيل اللَّه أو في (رتاج) (٣) الكعبة؟ (فقالت) (٤): يكفرها ما يكفر اليمين (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت منصور بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ انسان کے اس قول پر کیا کفارہ ہے کہ وہ یوں کہے میرا سارا مال اللہ کے راستے میں یا کعبہ کے دروازے کے لیے ؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ اس کا کفارہ ادا کرے گا جو قسم کا کفارہ ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (بن)، وفي [أ، ن]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ب، ص، ز]: ﵂.
(٣) في [ن]: (تاج).
(٤) في [أ، ب، ن]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12738
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12738، ترقيم محمد عوامة 12479)