حدیث نمبر: 12531
١٢٥٣١ - حدثنا محمد بن فضيل عن بيان عن قيس قال: دخل أبو بكر على امرأة من (أحمس) (١) (مصمتة) (٢) في (حجتها) (٣) فجعلت تشير إليه ولا تكلمه فقال: ما لها لا تتكلم فقالوا: إنها نذرت أن تحج مصمتة فقال: تكلمي فإن هذا لا يحل لك إنما هذا من عمل الجاهلية (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق احمس کی ایک خاتون کے پاس گئے جو اپنے خیمہ میں خاموش بیٹھی تھی، وہ آپ کی طرف اشارے کر رہی تھی لیکن بات نہیں کر رہی تھی، آپ نے پوچھا اس کو کیا ہوا یہ بات نہیں کر رہی ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ خاموش رہ کر حج کرے گی، آپ نے فرمایا : بات کر، یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ن، ز]: (أخمس).
(٢) في [أ]: (مضميه)، وفي [ز، ن، ب]: (مضحيه).
(٣) في [أ، ز، ب، ن]: (حياتها)، وفي [طـ]: (خبائها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12531
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٨٣٤)، والدارمي (٢١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12531، ترقيم محمد عوامة 12283)