مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
باب كان رسول الله ﷺ (لا يبكي) باب: اس بات کے بیان میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روتے تھے
حدیث نمبر: 12511
١٢٥١١ - حدثنا عفان حدثنا وهيب عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان عن محمد بن عمرو بن عطاء عن سلمة بن الأزرق عن أبي هريرة قال: مر على النبي ﷺ بجنازة يبكي عليها وأنا معه وعمر بن الخطاب، فانتهر عمر اللاتي يبكين مع الجنازة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "دعهن يا ابن الخطاب، فإن النفس مصابة والعين دامعة والعهد قريب" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ رونے والی عورتیں بھی تھیں میں اور حضرت عمر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، حضرت عمر نے جنازے کے ساتھ رونے والیوں کو ڈانٹا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! ان کو چھوڑ دو ، بیشک نفس مصیبت زدہ ہے، اور آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور وعدہ (مقرر وقت) قریب ہے۔
حواشی
(١) مجهول؛ سلمة بن الأزرق مجهول، أخرجه أحمد (٥٨٨٩)، وابن ماجه (١٥٨٧)، والحاكم ١/ ٣٨١، وابن حبان (٣١٥٧)، والبيهقي ٤/ ٧٠، وعبد الرزاق (٦٦٧٤)، والنسائي ٤/ ١٩، وعبد بن حميد (١٤٣٨)، وأبو يعلى (٦٤٠٥).