مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في البكاء على الميت باب: بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
١٢٥٠٣ - حدثنا الحسن بن موسى عن سعيد بن زيد قال: حدثني عطاء بن السائب ثنا عكرمة قال: كان ابن عباس يقول: احفظوا هذا الحديث، إن إحدى بنات النبي ﷺ كانت في الموت فوضعها رسول اللَّه ﷺ على يديه ووضع (رأسها) (١) ⦗٢٦٠⦘ على ثدييه وهي تسوق حتى (قبضت) (٢)، فوضعها وهو يبكي، قال: فصاحت أم أيمن، فقال النبي ﷺ " [أو لا أراك (تبكين) (٣)] (٤) عند (رسول اللَّه) (٥) ﷺ"، قالت: (و) (٦) لا أرى رسول اللَّه ﷺ-يبكي قال: "إني لم أبك، ولكنها رحمة" (٧).حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس حدیث کو یاد کرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بیٹی موت کے قریب تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور سینے سے لگایا، راوی کہتے ہیں کہ وہ قریب المرگ تھیں یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نیچے رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، حضرت ام ایمن نے چیخنا شروع کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے روئے، حضرت ام ایمن نے فرمایا : کیا میں رسول اللہ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نہیں رو رہا یہ تو رحمت کے آنسو ہیں۔