مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في البكاء على الميت باب: بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
١٢٥٠٢ - حدثنا شبابة بن سوار ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت (عن) (١) أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ولد لي الليلة غلام فسميته باسم أبي: إبراهيم"، قال: ثم (دفعه) (٢) إلى أم سيف -امرأة قين بالمدينة يقال له أبو سيف- فانطلق ⦗٢٥٩⦘ رسول اللَّه ﷺ وانطلقت معه فصادفنا أبا سيف ينفخ في كيره وقد امتلأ البيت دخانًا، فأسرعت المشي بين يدي النبي ﷺ حتى انتهى إلى أبي سيف (فقلت) (٣): يا أبا سيف أمسك أمسك جاء رسول اللَّه ﷺ. فأمسك، فدعا رسول اللَّه ﷺ بالصبي فضمه إليه، وقال: ما شاء اللَّه أن يقول، قال أنس: فلقد رأيته يكيد بنفسه قال: فدمعت (عينا) (٤) النبي ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ: "تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون" (٥).حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات میرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔ پھر آپ نے اس کو ام سیف کے پاس دودھ پلانے کے لیے بھیج دیا جو مدینہ کے ابو سیف لوہار کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، ہم اچانک ابو سیف کے پاس پہنچے جو اپیا دھونکنی میں پھونک مار رہا تھا جس کی وجہ سے سارے گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیز چل کر ابو سیف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا : اے ابو سیف رک جا رک جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس کو سینے سے لگایا اور کہا جو اللہ نے چاہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان (ابراہیم) کو دیکھا کہ وہ نزع کی تکلیف میں مبتلا ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم بات نہیں کریں گے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو اور اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے بہت غمگین اور مغموم ہیں۔