مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في البكاء على الميت باب: بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 12501
١٢٥٠١ - حدثنا وكيع ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قال: ذكر لها حديث ابن عمر: أن الميت (ليعذب) (١) ببكاء الحي فقالت: وهل أبو عبد الرحمن كما وهل يوم قليب (بدر) (٢) إنما قال رسول اللَّه ﷺ: "إنّه ليعذب وإنَّ أهله ليبكون عليه" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کی گئی کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا حضرت ابو عبد الرحمن کو اسی طرح غلطی ہوئی ہے جس طرح انہیں بدر کے کنویں کے مقتولوں کے بارے میں غلطی ہوئی تھی۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک میت کو عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (يعذب).
(٢) في [أ، ب]: (بدرًا).