مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في البكاء على الميت باب: بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
١٢٥٠٠ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن جابر قال: أخذ النبي ﷺ بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل فأتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه (فوضع) (١) في حجره، فقال: "يا بني لا أملك لك من اللَّه شيئًا"، وذرفت (عينه) (٢) فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول اللَّه أو لم تنه عن البكاء؟ قال: "إنما نهيت عن النوح عن صوتين (أحمقين) (٣) فاجرَيْن صوت عند (نغمة) (٤) (لهو ولعب) (٥) (و) (٦) مزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ⦗٢٥٨⦘ ورنة شيطان، إنما هذه رحمة ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا أنه أمر حق ووعد صدق وسبيل مأْتِيَّه، وإن (أخرانا) (٧) (سيلحق) (٨) أولانا، لحزنّا (٩) عليك حزنًا أشد من هذا، وانا بك لمحزونون، تبكي العين و (يحزن) (١٠) القلب ولا نقول ما يسخط الرب" (١١).حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور کھجور کے درختوں کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو لایا گیا وہ اس وقت قریب المرگ تھے، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ رو رہے ہیں ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے، دو فاجر اور احمق آوازوں سے : نغمہ کے وقت لھو ولعب کی آواز اور شیطان کی بانسری (کی آواز) اور مصیبت کی وقت کی آواز : چہروں کو نوچنا، گریبان چاک کرنا اور شیطان کی طرح زور سے چیخنا، بیشک یہ تو رحمت کے آنسو ہیں، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اے ابراہیم اگر یہ امر حق نہ ہوتا، وعدہ سچا نہ ہوتا اور راستہ اور جہت انجانی نہ ہوتی اور ہمارے آخر والے عنقریب ہمارے پہلوں سے ملنے والے نہ ہوتے تو ہمارا غم تیرے بارے میں اس سے زیادہ ہوتا، اور ہم تیری وجہ سے البتہ غمگین ہیں آنیں ور روتی ہیں اور دل غمگین اور مغموم ہے اور ہم ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔