مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في البكاء على الميت باب: بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
١٢٤٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد قال: دمعت (عين) (١) رسول اللَّه ﷺ حين أتي (بابنة) (٢) (زينب) (٣) ونفسها تقعقع كأنها في شن قال: فبكى، قال: فقال له رجل: تبكي وقد نهيت عن البكاء؟ فقال: "إنما هذه رحمة جعلها اللَّه في قلوب عباده وإنما يرحم اللَّه من عباده الرحماء" (٤).حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب حضرت زینب کی بیٹی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت زینب کا سانس اکھڑ رہا تھا، گویا کہ وہ بڑھاپے میں ہیں، یہ حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو پڑے، ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ نے تو رونے سے منع کیا ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تو رحمت (کے آنسو) ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے، بیشک اللہ پاک اس پر رحم کرتا ہے جو اس کے بندوں پر رحم کرنے والا ہو۔