حدیث نمبر: 12496
١٢٤٩٦ - حدثنا ابن نمير ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (أنها) (١) قيل لها: (إن) (٢) ابن عمر يرفع إلى النبي ﷺ: "إن الميت يعذب ببكاء الحي"، (فقالت) (٣): وَهَلَ أبو عبد الرحمن إنما قال: "إن أهل الميت يبكون عليه وإنه ليعذب بجرمه" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے کی وجہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن کا گمان یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا : میت کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں اور اس کو اپنے جرموں کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہوتا ہے۔
حواشی
(١) في [ص]: (أن).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [أ، ب]: (فقال).