حدیث نمبر: 12494
١٢٤٩٤ - حدثنا ابن عيينة عن ابن (أبي نجيح) (١) عن أبيه عن عبيد بن عمير قال: قالت أم سلمة: لما مات أبو سلمة قلت: (غريبة) (٢) وفي أرض (غربة) (٣) (لأبكينه) (٤) بكاء يتحدث عنه، فكنت قد تهيأت للبكاء إذ أقبلت امرأة من (الصعيد) (٥) تريد أن تسعدني فاستقبلها رسول اللَّه ﷺ فقال: (تريدين) (٦) أن (تدخلي) (٧) الشيطان (بيتًا) (٨) أخرجه اللَّه (منه) (٩) مرتين"، (قالت) (١٠): فسكت عن البكاء فلم أبك (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا میں مسافرہ ہوں، اجنبی زمین میں ہوں، میں ان کے لیے ایسا روؤں گی جو اس سے بیان کیا جائے گا، جب میں نے رونے کا (نوحہ) ارادہ کیا تو ایک عورت اونچی زمین سے میرے پاس آئی جو میری مدد کرنا چاہتی تھی رونے میں، بس حضور اقدس متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم دونوں چاہتی ہو شیطان کو اس گھر میں داخل کردو جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نکالا ہے ؟ دو بار یہی ارشاد فرمایا، فرماتی ہیں میں رونے سے خاموش ہوگئی پھر میں نہ روئی۔

حواشی
(١) في [ص]: (جريح).
(٢) في [هـ]: (غريب).
(٣) في [ص]: (غريبة).
(٤) في [هـ]: (لأبكيته)، وفي [ص، ز، أ، ب]: (لأبكين).
(٥) في حاشية [ب]: (الصعيد أصله وجه الأرض، وأراد هنا عوالي المدينة المنورة).
(٦) في [أ، ب، ص]: (تريدان).
(٧) في [ص، ز]: (يدخل).
(٨) في [ص]: (بيتك).
(٩) في [أ، ز، ص]: (عنه).
(١٠) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٢) وأحمد (٢٦٤٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12494، ترقيم محمد عوامة 12245)