حدیث نمبر: 12471
١٢٤٧١ - حدثنا أبو أسامة أنا إسماعيل أنا قيس قال: رمى مروان طلحة يوم الجمل بسهم في ركبته فمات (فدفناه) (١) على (شاطئ) (٢) الكَلَّاء (٣)، فرأى بعض ⦗٢٤٧⦘ أهله أنه قال: (ألا) (٤) تريحونني من هذا الماء فإني (قد) (٥) غرقت، ثلاث مرات يقولها، (قال) (٦): فنبشوه فاشتروا له دارًا من (دور) (٧) آل (أبي) (٨) بكرة بعشرة آلاف (فدفناه) (٩) فيها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ جمل میں مروان نے حضرت طلحہ کے گھٹنے پر نیزہ مارا جس سے وہ شھید ہوگئے اور ان کو بصرہ میں دفن کردیا گیا، ان کے اھل میں سے کسی نے ان کو خواب میں دیکھا انہوں نے فرمایا : کیا تم مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے اس پانی سے ؟ بیشک مں ڈوب رہا ہوں، تین بار یہی کہا، پھر انہوں نے اس قبر کو کھودا اور ان کے لیے حضرت ابو بکرہ کے آل کے گھروں میں سے ایک گھر دس ہزار کا خرید کر اس میں ان کو دفن کردیا۔
حواشی
(١) في [ص]: (فذفناه).
(٢) في [ص]: (شالى).
(٣) الكّلّاء: مرفأ السفن؛ لأنه يكلأ السفن ويحفظها من الريح.
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [أ، ب، ص]: زيادة (قد).
(٦) سقط من: [ص].
(٧) في [أ، ب، هـ]: (دار).
(٨) سقط من: [ص].
(٩) في [هـ]: (فدفنوه).