حدیث نمبر: 12462
١٢٤٦٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد اللَّه بن عطاء عن ابن بريدة عن أبيه قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ إذ جاءته امرأة فقالت له: (إنه) (١) كان على أمي ⦗٢٤٤⦘ صوم شهرين (أفيجزي) (٢) عنها أن أصوم عنها؟ قال: "نعم" قالت: فإن أمي لم تحج قط (أفيجزى) (٣) أن أحج عنها؟ قال: "نعم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا : میری والدہ کے ذمہ دو مہینے کے روزے تھے کیا یہ کافی ہے کہ میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں اس نے عرض کیا : میری والدہ نے کبھی حج نہیں کیا تھا کیا کافی ہے (جائز ہے) کہ میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔

حواشی
(١) في [ص]: (إن).
(٢) في [أ]: (فيجزي).
(٣) في [ز]: (أفيجزيني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12462
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٤٩)، وأحمد (٢٣٠٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12462، ترقيم محمد عوامة 12213)