مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما يتبع الميت بعد موته باب: موت کے بعد میت کو کیا چیز پہنچتی ہے (ثواب کے اعمال میں سے)
حدیث نمبر: 12452
١٢٤٥٢ - حدثنا هشيم عن حجاج عن (عمرو) (١) بن (شعيب) (٢) عن أبيه عن جده أنه سأل النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن (العاص) (٣) بن وائل كان يأمر في الجاهلية أن ينحر مائة بدنة، وإن هشام بن (العاص) (٤) نحر حصته من ذلك خمسين بدنة أفأنحر؟ عنه فقال: "إن أباك لو كان أقر بالتوحيد (فصمت عنه) (٥) أو تصدقت (عنه) (٦) أو (أعتقت) (٧) عنه بلغه ذلك" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں حکم دیا تھا کہ سو اونٹ ذبح کیے جائیں اور ہشام بن العاص نے ان کے حصہ کے پچاس اونٹ ذبح کیے تھے، کیا میں ان کی طرف سے ذبح کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تیرے والد نے توحید کا اقرار کرلیا تھا تو تمہارے ان کی طرف سے روزہ رکھنے سے، صدقہ کرنے سے اور غلام آزاد کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔
حواشی
(١) في [ص]: (عمر).
(٢) في [أ]: (أشعث).
(٣) في [هـ]: (العاصي).
(٤) في [ب، هـ]: (العاصي).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [س، ط، هـ]: (عتقت)، وفي [ص]: (أعتفت).