حدیث نمبر: 12431
١٢٤٣١ - حدثنا حرمي بن عمارة عن عبد اللَّه بن بكر قال: كنت في جنازة ومعنا زياد بن جبير بن حية، فلما سووا القبر صب عليه الماء فذهب رجل يمسه (ويصلحه) (١) فقال زياد: يكره أن (تمس) (٢) الأيدي القبر بعد ما يرش عليه الماء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن بکر فرماتے ہیں کہ میں جنازے میں تھا ہمارے ساتھ حضرت زیاد بن جبیر بن حیہ بھی تھے جب قبر برابر کرلی گئی تو اس پر پانی ڈالا گیا، ایک شخص آیا وہ قبر کو چھونے لگا اور اس کو درست کرنے لگا حضرت زیاد نے فرمایا قبر پر پانی ڈالنے کے بعد اس کو ہاتھوں سے چھونا ناپسندیدہ ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (ويصلي).
(٢) في [هـ]: (يمس).