١٢٤٢٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن تميم (بن) (١) غيلان (ابن) (٢) سلمة قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء وهو مريض فقال: يا أبا الدرداء إنك قد أصبحت على جناح فراق الدنيا فمرني بأمر ينفعني (اللَّه) (٣) به وأذكرك به، قال: (إنا) (٤) من أمة معافاة، فأقم الصلاة وأد زكاة مالك (إن كان لك) (٥)، وصم رمضان واجتنب الفواحش ثم (أبشر) (٦). قال: ثم أعاد الرجل على أبي الدرداء فقال (له) (٧) مثل ذلك. قال شعبة: وأحسبه أعاد عليه ثلاث مرات ورد عليه أبو الدرداء ثلاث (مرات) (٨)، (فنفض) (٩) الرجل رداءه وقال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ ⦗٢٢٣⦘ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي (الْكِتَابِ)﴾ (١٠) إلى قوله: ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾، (فقال) (١١) أبو الدرداء: عليَّ (بالرجل) (١٢)، (فجاءه) (١٣) فقال أبوالدرداء: ما قلت؟ قال: كنت رجلًا معلمًا عندك) (١٤) من العلم ما ليس (عندي) (١٥)، فأردت أن تحدثني بما ينفعني اللَّه به فلم (ترد) (١٦) عليّ إلا قولًا واحدًا، (فقال) (١٧) (له) (١٨) أبو الدرداء: اجلس ثم اعقل ما أقول لك، أين أنت من يوم ليس لك من الأرض إلا عرض ذراعين في طول (أربعة) (١٩) أذرع، أقبل بك أهلك الذين كانوا لا يحبون فراقك وجلساؤك وإخوانك (فأطبقوا) (٢٠) عليك (البنيان) (٢١) ثم أكثروا (عليك) (٢٢) التراب ثم تركوك (بمثل) (٢٣) ذلك، ثم جاءك ملكان أسودان ⦗٢٢٤⦘ أزرقان جعدان أسماؤهما منكر ونكير، فأجلساك ثم سألاك: ما أنت؟ أم على ماذا كنت؟ (ثم) (٢٤) ماذا (تقول) (٢٥) في هذا؟ فإن قلت: واللَّه ما أدري، سمعت الناس قالوا قولًا (فقلت) (٢٦)، (فقد) (٢٧) واللَّه (رديت وخزيت وهويت) (٢٨)، (وإن) (٢٩) قلت: محمد رسول اللَّه أنزل اللَّه عليه كتابه (فآمنت) (٣٠) به وبما جاء به فقد واللَّه نجوت وهديت. (ولن) (٣١) (تستطيع) (٣٢) ذلك إلا بتثبيت من اللَّه مع ما ترى من الشدة والخوف (٣٣).حضرت تمیم بن غیلان بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابو الدرداء کے پاس آیا اور آپ بیمار تھے، اس نے عرض کیا اے ابو الدرداء ! بیشک آپ دنیا کی جدائی کے پہلو میں ہیں (جدائیگی قریب ہے) آپ مجھے ایسے کام کا حکم فرمائیں جس سے اللہ پاک مجھے فائدہ دے اور اس کے ساتھ میں آپ کو یاد کروں۔ آپ نے فرمایا تو عافیت والی امت میں سے ہے نماز قائم کر، تیرے مال پر اگر زکوٰۃ ہے تو وہ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اور برے کاموں سے اجتناب کر، پھر تیرے لیے خوشخبری ہے۔ اس شخص نے پھر یہی سوال دہرایا آپ نے اس کو بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس شخص نے تین بار سوال دہرایا اور آپ نے تین بار یہی جواب ارشاد فرمایا وہ شخص اپنی چادر کو جھٹکتے ہوئے کھڑا ہوا اور یہ آیت پڑھی { اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ } سے { وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ } [البقرۃ ١٥٩] تک حضرت ابو الدرداء نے فرمایا اس شخص کو میرے پاس واپس لے کر آؤ ! پھر اس سے فرمایا تو نے کیا کہا ؟ اس نے عرض کیا آپ سکھانے والے ہیں آپ کے پاس وہ علم ہے جو میرے پاس نہیں میں آپ کے پاس ارادے سے آیا تھا کہ آپ مجھ سے وہ چیز بیان کریں گے جس سے اللہ پاک مجھے نفع دیں گے مگر آپ مجھ سے صرف یہی بات بار بار فرماتے رہے۔ حضرت ابو الدرداء نے اس سے فرمایا میرے پاس بیٹھ جا اور جو میں کہوں اس کو اپنے پلے باندھ لے۔ اس دن تو کہاں ہوگا (تیرا کیا ہوگا) جس دن زمین میں سے تیرے لیے دو گز چوڑائی اور چار گز لمبائی کے سوا کچھ نہ ہوگا منحرف ہوجائیں گے تیرے وہ اہل و عیال جو تجھ سے جدا نہیں ہونا چاہتے تیرے ہم نشین اور تیرے بھائی تجھ پر عمارت کو مضبوط کریں گے۔ پھر تجھ پر کثرت سے مٹی ڈالیں گے پھر تجھے ہلاکت کے لیے چھوڑ دیں گے پھر تیرے پاس دو سیاہ فرشتے، زرد رنگ کا لباس پہنے گنگھریالے بالوں والے آئیں گے جن کا نام منکر نکیر ہے۔ وہ دونوں تیرے پاس بیٹھیں گے اور تجھ سے سوال کریں گے تو کیا ہے ؟ یا تو کس پر تھا ؟ یا تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ اگر تو نے کہا خدا کی قسم میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو اس کے بارے میں ایک بات کرتے ہوئے سنا تھا میں نے بھی کہہ دیا تو خدا کی قسم تو ہلاک اور ذلیل و رسواہو گیا۔ اور اگر تو نے یوں کہا یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اللہ پاک نے ان پر کتاب اتاری میں اس کتاب پر اور جو کچھ یہ لے کر آئے اس پر ایمان لایا تو خدا کی قسم تو نجات و ہدایت پا گیا اور تو ہرگز شدت اور خوف کی وجہ سے ان سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا مگر اللہ تعالیٰ تیرے دل کو مضبوط کر دے تو دے سکتا ہے۔