حدیث نمبر: 12423
١٢٤٢٣ - حدثنا ابن نمير حدثنا (سفيان) (١) عن الأسود بن قيس عن نبيح قال: سمعت أبا سعيد يقول: ما من جنازة إلا تناشد حملتها إن كانت مؤمنة (و) (٢) اللَّه عنها راض (قالت) (٣): أسرعوا بي، وإن كانت كافرة (و) (٤) اللَّه (عنها) (٥) ساخط ⦗٢٢٢⦘ قالت: ردوني. (فما) (٦) شيء (إلا) (٧) يسمعه إلا الثقلين، ولو سمعه الإنسان جزع (وفزع) (٨) (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نبی ح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید سے سنا وہ فرماتے ہیں کوئی جنازہ ایسا نہیں ہے مگر وہ اپنے اٹھانے والے کو کہتا ہے (مطالبہ کرتا ہے) اگر وہ مؤمن ہو اور اللہ پاک اس سے راضی ہوں، مجھے جلدی لے کر چلو اور اگر وہ کافر ہوں اور اللہ پاک اس سے ناراض ہوں تو کہتا ہے مجھے واپس لے چلو، جن و انس کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے۔ اگر انسان آواز سن لے تو چیخے اور (چیختے چیختے) کمزور لاغر ہوجائے۔
حواشی
(١) في [هـ، ب]: (شعبة).
(٢) سقط من: [أ، ز، ص].
(٣) في [أ، ب، ص، ز]: (قال).
(٤) سقط من: [أ، ز، ص].
(٥) في [ص، ز]: (عليها).
(٦) في [ص]: (فيما).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [ص، ز]: (وجزع)، وفي [أ]: (وخرع).