حدیث نمبر: 12421
١٢٤٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة عن البراء ابن عازب: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [إبراهيم: ٢٧]، قال: التثبيت في الحياة الدنيا إذا جاء الملكان إلى الرجل في القبر (فقالا) (٢) له: من ربك؟ (فقال) (٣): ربي اللَّه. (قالا) (٤): وما دينك؟ قال: ديني الإسلام. ⦗٢٢١⦘ (قالا) (٥): ومن نبيك؟ قال: (نبيي) (٦) محمد ﷺ. فذلك (التثبيت) (٧) في الحياة الدنيا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } میں دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی سے مراد یہ ہے کہ جب قبر میں کسی شخص کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں، تیرا رب کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا نبی کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یہ دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ص]: (سعيد).
(٢) في [ص]: (فقال لا).
(٣) في [ز]: (قال).
(٤) في [أ، ب، ص، ز]: (قال).
(٥) في [أ، ب، ص، ز]: (قال).
(٦) سقط من: [ص].
(٧) في [ص]: (الثثبت)، وفي [ب]: (التثبت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12421
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٣٦٩)، ومسلم (٢٨٧١)، مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12421، ترقيم محمد عوامة 12174)