حدیث نمبر: 12416
١٢٤١٦ - حدثنا وكيع عن الأسود بن شيبان قال: حدثني بحر بن (مرار) (١) عن جده أبي بكرة قال: كنت أمشي مع (النبي ﷺ) (٢) فمر على قبرين فقال: "إنهما ليعذبان، من (يأتيني) (٣) بجريدة؟ " (فاستبقت) (٤) أنا ورجل فأتينا بها، قال: فشقها من رأسها فغرس على (هذا) (٥) واحدة، وعلى (هذا) (٦) واحدة، وقال: "لعله" (٧) (أن) (٨) يخفف عنهما ما بقي فيهما من (بلولتهما) (٩) شيء، (إن يعذبان) (١٠) (في) (١١) الغيبة والبول" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بحر بن مرار اپنے دادا حضرت ابو بکرہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں پر گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، کون ہے جو میرے پاس کھجور کی لکڑی لے کر آئے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک شخص نے جلدی کی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی لکڑی لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرے سے لکڑی کو چیر کردو حصوں میں تقسیم فرمایا اور ایک کو ایک قبر پر اور دوسری کو دوسری قبر پر گاڑ دیا، اور فرمایا : جب تک کہ ان لکڑیوں میں تری موجود ہے شاید کہ اس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کمی ہوجائے، ان کو عذاب غیبت اور پیشاب (کے قطروں سے نہ بچنے کی وجہ سے) ہو رہا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ص]: (مروان).
(٢) في [ز]: (الناس).
(٣) في [أ، ز]: (يأتني).
(٤) في [أ]: (فاستققت)، وفي [هـ]: (فاسبقت).
(٥) في [أ، ب]: (هذه).
(٦) في [أ، ب]: (هذه).
(٧) في [هـ]: (لعل).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [ز]: (بلواتهما)، وفي [ص]: (بلويها).
(١٠) سقط من: [ص]، وفي [هـ]: (كانا يعذبان).
(١١) في [ص]: (يعني)، وفي [أ، ب، ز]: (لفي).
(١٢) منقطع، بحر بن مرار لم يسمع من جده، أخرجه أحمد (٢٠٤١١)، وابن ماجه (٣٤٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٢٧، والطيالسي (٨٦٧)، والطبراني في الأوسط (٣٧٥٩)، وابن عدي ٢/ ٤٨٧، والعقيلي ١/ ١٥٤، والطحاوي في شرح المشكل (٥١٩١)، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (١٢٤)، والبزار (٣٦٣٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12416
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12416، ترقيم محمد عوامة 12169)