١٢٤١٢ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: كنت أنا وعمرو بن (العاص) (١) جالسين فخرج علينا رسول اللَّه ﷺ ومعه (درقة) (٢) أو شبهها فاستتر بها ثم (بال) (٣) وهو جالس، فقلنا: يا رسول اللَّه ﷺ (تبول) (٤) كما تبول المرأة قال: فجاءنا فقال: "أو ما علمتم ما (أصاب) (٥) صاحب بني إسرائيل؟ كان الرجل (منهم) (٦) إذا أصابه الشيء من البول قرضه بالمقراض فنهاهم عن ذلك فعذب في قبره" (٧).حضرت عبد الرحمن بن حسنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عمرو بن العاص بیٹھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چمڑہ کی ڈھال یا اس کے مشابہ کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پردہ فرمایا اور بیٹھ کر قضائے حاجت کی، ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس طرح (چھپ کر) قضائے حاجت فرمائی ہے جس طرح عورت کرتی ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا تمہیں نہیں معلوم بنی اسرائیل کے صاحب پر کیا گذری ؟ ان میں سے کسی شخص کے کپڑوں کو اگر پیشاب کا قطرہ لگ جاتا تو وہ اس کو قینچی سے کاٹ دیتا، پس ان کو روکا اس سے تو ان کو قبر میں عذاب ہوا۔