حدیث نمبر: 12409
١٢٤٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن فاطمة عن (أسماء) (١) عن] (٢) النبي ﷺ قال: "قد أوحي إليَّ أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبًا من فتنة المسيح الدجال ثم (يؤتى) (٣) أحدكم (فيقال له) (٤) ما علمك بهذا الرجل، قال: فأما المؤمن فيقول محمد هو رسول اللَّه ﷺ، جاءنا بالبينات والهدي فأجبنا واتبعنا، فيقال: (نم) (٥) صالحًا (فقد) (٦) علمنا أنك مؤمن باللَّه، وأما المنافق (أو) (٧) المرتاب"، (لا أدري أي ذلك قالت أسماء) فيقول: "لا أدري سمعت الناس قالوا (قولا فقلته) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسمائ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مرِی طرف وحی کی گئی ہے کہ بیشک تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے (فتنہ میں مبتلا کئے جاؤ گے) اسی کے مثل یا مسیح دجال کے فتنہ کے قریب، پھر تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اس کو کہا جائے گا، اس شخص کے بارے میں تو کیا جانتا ہے ؟ فرمایا مؤمن شخص کہے گا، یہ محمد ہں ں، اللہ کے رسول ہیں، جو ہمارے پاس واضح دلائل اور ھدایت لے کر آئے ہم نے اس کو قبول کیا اور ان کی اتباع کی، اس کو کہا جائے گا امن و سلامتی سے سو جا ہمیں معلوم تھا کہ تو اللہ پر ایمان لانے والا ہے، بہر حال منافق اور شک کرنے والا، (کہے گا) مجھے نہیں معلوم یہ کون ہیں، حضرت اسمائ فرماتی ہیں وہ کہے گا، مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہ کہہ دی۔

حواشی
(١) في [ص]: (إسماعيل).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (يوفى).
(٤) في [أ، هـ]: (فيقول).
(٥) في [أ، ب، ص]: (ثم).
(٦) في [ص]: (لقد).
(٧) في [أ]: (و).
(٨) في [ص]: (لولا قولية).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12409
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٦)، ومسلم (٩٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12409، ترقيم محمد عوامة 12163)