١٢٣٩٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن علقمة بن مرثد عن المغيرة بن عبد اللَّه اليشكري عن المعرور بن سويد عن عبد اللَّه قال: قالت أم حبيبة زوج النبي ﷺ: [اللهم (متعني) (١) بزوجي: النبي ﷺ، وبأبي: أبي سفيان، وبأخي: معاوية فقال النبي ﷺ (٢): "إنك قد سألت اللَّه لآجال (مضروبة) (٣) وأيام معدودة وأرزاق مقسومة (لن) (٤) يعجل شيئًا [أقبل (أجله) (٥) (أو) (٦) يؤخر شيئًا] (٧)، عن (أجله) (٨)، ولو كنت سألت اللَّه أن (يعيذك) (٩) من عذاب في النار أو عذاب (في) (١٠) القبر كان خيرًا وأفضل" (١١).حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے یوں دعا مانگی، اے اللہ ! مجھے میرے شوہر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، میرے والد ابو سفیان اور میرے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک تو نے اللہ سے ان تقدیروں کے بارے میں جو طے ہوچکی اور ان دنوں کے جو گنے جا چکے اور اس رزق کا جو تقسیم ہوچکا ہے سوال کیا ہے، کوئی بھی چیز اپنی تدبیر سے نہ پہلے ہوگی، نہ مؤخر ہوگی، اگر تو اللہ تعالیٰ سے عذاب جہنم سے نجات اور عذاب قبر سے نجات کا سوال کرتی تو وہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔