حدیث نمبر: 12395
١٢٣٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت: دخلت عليها يهودية فوهبت لها طيبًا، فقالت: أجارك اللَّه من عذاب القبر، قالت: فوقع في نفسي من ذلك فلما جاء رسول اللَّه ﷺ قلت: يا رسول اللَّه ﷺ إن (للقبر) (١) عذابًا؟ قال: "نعم انهم ليعذبون في قبورهم عذابًا (تسمعه) (٢) البهائم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک یہودیہ خاتون آئی پس اس نے آپ کو خوشبو ھبہ کی، اس نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے دل میں اس کے بارے میں خیال آیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا قبر میں عذاب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، بیشک وہ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں، جس کو بہائم سنتے ہیں۔

حواشی
(١) في [س، ط، هـ]: (في القبر).
(٢) في [ص]: (يسمعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٣٦٦)، ومسلم (٥٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12395، ترقيم محمد عوامة 12150)