مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت وعليه الدين (من) قال: لا (يصلى) عليه حتى (يضمن) دينه باب: کوئی شخص فوت ہو جائے لیکن اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک قرض نہ ادا کر لیا جائے نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 12389
١٢٣٨٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا محمد بن عمرو حدثنا أبو كثير مولى الليثيين عن محمد بن عبد اللَّه بن جحش أن رجلًا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما لي إن قتلت في سبيل اللَّه؟ قال: "الجنة"، فلما ولى قال: "إلا الدَّيْنُ (سارَّني) (٢) به جبريل (آنفًا) (٣) " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد اللہ بن جحش سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اللہ کے راستہ میں اپنی جان قربان کر دوں۔ (تو کیا بدلہ ہے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت، پھر جب وہ پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوائے قرض کے جو حضرت جبرئیل نے مجھے ابھی بتلایا ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (بشير).
(٢) في [ص]: (صارني).
(٣) في [ص]: (أنفسنا).