مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الجنازة يمر بها فيثنى عليها خيرا باب: جنازہ قریب سے گزرنے پر اس کی تعریف بیان کرنا
١٢٣٦٤ - حدثنا عفان حدثنا داود بن أبي الفرات عن عبد اللَّه بن (١) بريدة عن أبي الأسود (الديلي) (٢) قال: قدمت المدينة وقد وقع بها مرض فجلست إلى عمر بن ⦗١٩٦⦘ الخطاب، فمرت بهم جنازة فأثني (على صاحبها) (٣) (خير) (٤) فقال عمر: وجبت، ثم (مر) (٥) بأخرى فأثني عليها (بشر) (٦) فقال عمر: وجبت. فقال أبو الأسود: فقلت: وما وجبت يا أمير المؤمنين؟ قال: قلت كما قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما مسلم (يشهد) (٧) له أربعة بخير أدخله اللَّه الجنة"، فقلنا وثلاثة قال: "وثلاثة"، فقلنا: وأثنان قال: "وأثنان"، ثم (لم نسأله) (٨) عن الواحد (٩).حضرت ابو الوسود الدیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اس میں وبا پھیلی ہوئی تھی، میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس بیٹھا تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا جس کی اچھائی بیان کی گئی، حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، پھر ایک جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، حضرت ابو الاسود نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! کیا واجب ہوگئی ؟ حضرت عمر نے فرمایا میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان کی چار بندے اچھائی کی گواہی دیں اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے، ہم نے عرض کیا اگر تین ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین پر بھی، ہم نے عرض کیا اگر دو ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو پر بھی جنت میں داخل فرمائیں گے، پھر ہم نے ایک کے متعلق سوال نہیں کیا۔