حدیث نمبر: 12360
١٢٣٦٠ - حدثنا وكيع عن مهدي عن رجل يقال له: إسماعيل الجحدري قال: خرجنا في جنازة فشهدها الحسن قال: فرأى قومًا ازدحموا على السرير فقال الحسن: ما شأن هؤلاء؟ إني لأظن الشيطان (حسر) (١) من الناس، فاتبعهم (ليحبط) (٢) أجورهم.
مولانا محمد اویس سرور

اسماعیل الحجدری فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں نکلے تو اس میں حسن بھی شریک تھے، انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چارپائی پر ازدحام کر رہے ہیں، حسن نے فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ؟ میرا گمان ہے کہ شیطان نے لوگوں میں خیر اور اجر کا احساس دیکھا تو ان کے ساتھ مل گیا اور ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام سے کام لیں اور اس سے دوسروں کو تکلیف ہو اور وہ ان کے اجر کو ضائع کر دے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (حسن)، وفي [س]: (حس).
(٢) في [أ]: (لتحبط).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12360
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12360، ترقيم محمد عوامة 12117)