مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
الرجل يذكر الله وهو على الخلاء أو هو يجامع باب: بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1232
١٢٣٢ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن عطاء (بن أبي مروان) (١) الأسلمي عن أبيه عن كعب قال: قال موسى ﵇ (٢): "أي رب أقريب أنت فأناجيك، أم بعيد فأناديك؟ قال: يا موسى أنا جليس من ذكرني. قال: يا رب فإنا نكون من الحال على حال نعظمك أو نجلك أن نذكرك عليها. قال: وما هي؟ قال: الجنابة والغائط. قال: يا موسى اذكرني على كل حال" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ اے رب تو قریب ہے کہ میں تجھ سے سرگوشی کروں یا تو دور ہے کہ میں تجھے پکاروں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہم نشین ہوتا ہوں۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! بعض اوقات ہم ایسی حالت میں ہوتے ہیں جس میں تیرا ذکر تیری عظمت اور تیرے جلال کے منافی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی حالت ہے ؟ عرض کیا جنابت اور رفع حاجت کی حالت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! ہر حال میں میرا ذکر کرو۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، خ، د، ك، هـ]: (عن أبي هارون)، وانظر: حلية الأولياء ٦/ ٤٢، شعب الإيمان ١/ ٤٥١، تفسير القرطبي ٤/ ٣١١، وتاريخ دمشق ٦١/ ١١٦.
(٢) سقط من: [أ، جـ، خ، ك]: ﵇.
(٣) في حاشية [د]: (معمر عن قتادة عن معبد الجهني قال: يكره ذكر اللَّه في موطنين عند الخلاء وعند الجماع، عن ليث عن مجاهد: يكره الكلام على الغائط والبول).