مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من كره القيام للجنازة باب: بعض حضرات نے جنازے کیلئے کھڑے ہونے کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 12283
١٢٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الوهاب) (١) الثقفي عن أيوب عن محمد عن (الحسن) (٢) بن علي وابن عباس أنهما رأيا جنازة فقام أحدهما وقعد الآخر فقال الذي (قام للذي) (٣) لم (يقم) (٤): (٥) ألم يقم رسول اللَّه ﷺ قال: بلى، ثم قعد (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جنازہ دیکھا تو ان میں سے ایک کھڑے ہوگئے اور دوسرے بیٹھے رہے، جو کھڑے ہوئے تھے انہوں نے ان سے پوچھا جو کھڑے نہ ہوئے تھے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نہ ہوتے تھے ؟ انہوں کہا کیوں نہیں پھر بیٹھ گئے۔
حواشی
(١) في [ز]: زيادة (عبد الوهاب).
(٢) في [ز]: (الحسين).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في []: زيادة (لم لم تقم).